پوٹومایو 2اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کولمبیا کے جنوبی حصے میں دریاؤں کے بند ٹوٹنے کی وجہ سے پانی اور کیچڑ کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ کولمبیا میں گزشتہ روز تین دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے تھے۔کولمبیا کے جنوبی صوبے پوٹو مایو میں گزشتہ کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے سبب جمعہ یکم اپریل اور ہفتہ کی درمیانی رات تین دریا اپنے کناروں سے بہہ نکلے اور اس سبب پیدا ہونے والے کیچڑ زدہ پانی نے سینکڑوں گھروں کو تباہ کر دیا۔ کولمبیا کے صدر یوآن مانویل سانتوس نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جبکہ امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے وہ خود صوبہ پوٹومایو کے دارالحکومت ماکووا میں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موسم کی شدت کے باوجود امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا کام جاری رکھیں گے تاہم انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ صدر سانتوس کے مطابق ہمیں یہ نہیں پتہ کہ (کیچڑ کے نیچے)کتنے لوگ ہیں۔ ہم تلاش کا کام جاری رکھیں گے اور سب سے پہلی چیز جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ میرا دل، ہمارے دل اور کولمبیا کے عوام کے دل اس سانحے کی متاثرین کے ساتھ ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تین دریاؤں کے کنارے سے بہہ نکلنے والاپانی مٹی کے ساتھ مل کر کیچڑ کے ریلے کی شکل اختیار کر گیا اور صوبہ پوٹومایو کے دارالحکومت اور اس نسبتاََچھوٹے شہر میں تباہی اور بربادی پھیلاتا چلا گیا۔ ریلے کے بہاؤ کی قوت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کی راہ میں آنے والے مکانات تباہ ہو گئے جبکہ یہ کاروں اور دیگر اشیاء کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ موکووا رہ علاقے میں زیادہ تر لوگ سوئے ہوئے تھے۔امدادی تنظیم ریڈکراس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 200 سے زائد ہے جبکہ 400 دیگر زخمی ہیں جبکہ 220 افراد لاپتہ ہیں۔ کولمبیا کے نیشنل ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر کارلوس ایوان ماکوئز کے مطابق کیچڑ کے ریلے سے ماکووا کے 17 علاقے متاثر ہوئے۔